Poetry
ہر روز صُبح محبت کا نیا بیڑہ اُٹھاتا ہوں
پھِرشام تلک محبُوب کا نام بھُول جاتا ہوں
اپنے ہر نئے محبُوب کو پروانہ کہتا ہوں
سرِشام اپنے دِل کے آنگن اِک دِیا جلادیتا ہُوں
جلیں پر پروانے کے روز یہی دُعا کرتا ہُوں
نہیں پُوری ہوتیں ایسی خواہشیں جانتا ہوں
راناتوحید--
This was originally published to my Twiter on June 23, 2022
Comments
Post a Comment